828

سویڈن شدید گرمی کی لپیٹ میں

سویڈن میں ان دنوں گرمی کی سخت لہر کی بدولت درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیاہے. گرمی کی شدت سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے. بڑھتی ہوئی اس آگ پر قابو پانے کے لیے نہ صرف ملکی فوج طلب کی گئی ہے بلکہ یورپی یونین کے ممالک سے بھی مدد کی درخواست کی گئی ہے.جس کے نتیجے میں اٹلی نے فضا سے پانی برسانے والے دو بڑے جہاز بھیجے ہیں جن میں 6000لیٹر کے قریب پانی کی گنجائش موجود ہے . فرانس اور ناروے کی طرف سے بھی آگ بجھانے والے ہیلی کاپٹر کی امداد دی گئی ہے اور مزید کی توقع کی جارہی ہے.

سویڈن کے محکمہ سول املاک کی ترجمان برتا رام برگ کا کہنا ہے کہ ”یہ ایک پریشان کن صورتحال ہے .ملک میں کئی مقامات پر جنگلات میں آگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں یاولے بورگ، یامت لاند ، دالرنا اور ہیلسنگ لاند شامل ہیں.
تاہم ان میں یامت لاند میں لگی آگ زیادہ شدت اختیار کرتی جارہی ہے. ”
ریسکیو سروس کے ادارے امید کررہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی اس آگ پر جلد قابو پا لیا جائے گا. آگ کے پیش نظر ملک کی کچھ شاہراہیں بھی آمدورفت کے لیے فی الحال بند کردی گئی ہیں ان میں بڑی شاہراہ ای 45 کا کچھ حصہ بھی شامل ہے. حکومت کی طرف سے حفظ ماتقدم کے طور پر پورے ملک میں باربی کیو کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.