466

سویڈن میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے چند سوالات

جس طرح کسی بھی مشین کی کارکردگی اسکے پرزوں کی ساخت اور بناوٹ پر منحصر ہوتی ہے بلکل اسی طرح کسی ملک کی ترقی اور کارکردگی کا انحصار اس کے ایوان میں پہنچنے والے چنندہ نمائندوں کی کارکردگی پر ہے جی ہاں الیکشن کا زور ہے ہر سیاسی جماعت چاہتی ہے کہ اس دفعہ اس کی نمائندگی ایوان میں زیادہ ہو خواہ اسکے لیے انہیں عوام سے جھوٹے یا سچے کیسے بھی وعدے کرنے پڑیں اور معصوم عوام ہر دفعہ مٹی کو سونا سمجھتے ہوے انکے جھانسے میں آجاتی ہیں ہم نے سویڈن میں موجود سیاسی جماتوں کے نمائندوں سے چند سوالات کیےاور انھوں نے اپنی اپنی جماعت کے منشور کے حساب سے انکے جوابات دیے

امجد احمد، صدر عوامی نیشنل پارٹی سویڈن

آپ یا آپکی پارٹی آنے والے الیکشن کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کو کسی بھی صورت ڈی ریل نہیں ہونا چاہیے۔ تو ہم سمجھتے ہیں کہ جولائی ٢٠١٨ کا الیکشن ایک اہم جمہوری عمل ہے اور الله تعالی کرے کہ پرامن اور دھاندلی سے پاک انتخابات منعقد ہوں۔ میں بذاتِ خود بہت خوش ہو کیونکہ پاکستان میں عمومی اور بلخصوص پشتون علاقے بشمول کراچی اور خیبر پختونخواه میں آنے والا وقت کسان مزدور، غریب‌، طلباء و طالبات، نوجوانوں اور سرخ جھنڈے یا لالٹین کا ہے- انشاءالله
آپ یا آپکی پارٹی کو الیکشن کی شفافیت پر کتنا اعتماد ہے؟
نہ صرف پاکستان بلکہ سب ترقی پزیر ممالک میں انتخابات اتنے شفاف نہیں ہوتے جتنے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سےآنے والے انتخابات اتنے شفاف نہیں ہونگے، اس کی وجہ صاف ظاہر ہے، ایک پارٹی یا جناب عمران خان صاحب کس طرح سرکاری و ریاستی پروٹوکول لیکر اپنی انتخابی مہم چلا سکتے ہیں۔ کسی وقت یہ خاص ٹریٹمنٹ جناب نواز شریف کے ساتھ ہوتا تھا۔
آپکی پارٹی آنے والے الیکشن میں کیا اور کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے؟
عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی بھرپور حصہ لے رہی ہے اور انشاالله کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ پاکستان کی تمام پارٹیوں کو چاہیے تھا کہ اپنا انتخابی منشور اور اپنی پارٹی کا لائحہ عمل عوام کے سامنے رکھتے۔ پپلز پارٹی نے گو پیش کیا ہے پر اتنا ہمہ گیر اور تفصیل میں نہیںہے۔ جو منشور عوامی نیشنل پارٹی نے پیش کیا ہوا ہے وہ ایک مکمل، ترقی پسند اور خوشالی کا ضامن منشور ہے۔ ہماری جماعت کا انتخابی منشور انٹرنٹ/سوشل میڈیا پربھی میسر ہے۔
اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ ملنے کے بارے میں پارٹی کی کیا رائےہے اور اس سے کیا نقصان ہوگا؟
عوامی نیشنل پارٹی دوسری جماعتوں کی طرح اس معاملے میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے حق دینے کی حمایت کرتی ہے، بیرونِ ملک پاکستانی ملک کی معیثت میں اپنا بہت بڑا حصہ اپنی محنت کی کمائی سے ڈال رہے ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آپکی پارٹی کی کیا پالیسی ہے؟
اس سال ہمارے انتخابات کے منشور کا حصہ ہےکہ؛ ہمارے سفارت خانے غیر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں پر خصوصی توجہ دیں گے۔ ہماری جماعت سیاسی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے صحیح طور پر سیاسی اقدامات کو طاقت کے استعمال پر ترجیح دےگا، انشاالله

شکیل عمر نمائندہ یورپ پاک سر زمین پارٹی

آپ یا آپکی پارٹی آنے والے الیکشن کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آنے والا الیکشن پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین الیکشن میں سے ہے۔ جہاں تک سندھ اور خاص طور پر کراچی کی بات ہے یہاں پر ایک بڑی تبدیلی آئی ہے اور انشاءاللہ تعالیٰ ہم کراچی میں ،سکھر میں اور سندھ کے دوسرے شہروں میں ہم اپنی تمام نشست جیتیں گے اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا
آپ یا آپکی پارٹی کو الیکشن کی شفافیت پر کتنا اعتماد ہے؟
پاکستان میں ابھی تک ووٹنگ کے جدید آلات موجود نہیں ہیں اور جہاں انسان ہوتے ہیں وہاں غلطی کی گنجائش موجود ہوتی ہے لیکن جتنا غلطیوں کو کم کیا جاسکے اتنا ہی اچھا ہے۔
آپکی پارٹی آنے والے الیکشن میں کیا اور کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے؟
ہماری جماعت سندھ اور بلوچستان پہ زیادہ توجہ دے رہی ہے گو کہ ہم پورے پاکستان سے الیکشن لڑ رہے ہیں ہے امید کرتے ہیں سندھ میں ہمارا یا ہمارا حمایت یافتہ وزیر اعلی ہوگا۔

اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ ملنے کے بارے میں پارٹی کی کیا رائےہے اور اس سے کیا نقصان ہوگا؟
یقیناً بیرون ملک پاکستانیوں کی ایک بڑی شرکت ہے پاکستان کی ترقی میں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انکو ووٹ دینے کا پورا حق ہونا چاہیے ہر جماعت بات تو کرتی ہے مگر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آپکی پارٹی کی کیا پالیسی ہے؟
بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے اپنی پالیسی کو ہم نے اپنے منشور میں بھی شامل کیا ہے اور گاہے بہ گاہے ہم اس بارے میں کہتے بھی رہتے ہیں کہ ان کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع پیدا کرنے چاہیے اور ان سب سہولیات کو آسان بنانا چاہتے ہیں

کاشف عزیز بھٹہ, سیکرٹری جنرل پی ایم ایل این سویڈن

آپ یا آپکی پارٹی آنے والے الیکشن کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
پاکستان میں الیکشن 2018 کے دوران مسلم لیگ ن کا مقابلہ تمام سیاسی جماعتوں سے تو ہے ہی مگر ان کے ساتھ پاکستان کے کچھ قومی اداروں کے ساتھ بھی ہے جو نہیں چاہتے کہ مسلم لیگ ن دوبارہ عوام کی طاقت سے حکومت بنائے اس لئے یہ ادارے ہر وہ اقدام کر رہے ہیں جس سے مسلم لیگ ن کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہ لے سکیں۔ہم سمجھتے ہیں صرف ایک سیاسی جماعت کو جتوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود پاکستانی قوم مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے
آپ یا آپکی پارٹی کو الیکشن کی شفافیت پر کتنا اعتماد ہے؟
ہم کو اس موجودہ صورتحال میں الیکشن منصفانہ اور آزادانہ ہوتے نظر نہیں آ رہے۔
آپکی پارٹی آنے والے الیکشن میں کیا اور کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے؟
ہم سمجھتے ہیں پنجاب میں کارکردگی کی بنیاد پر مسلم لیگ ن حکومت بنائے گی۔
اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ ملنے کے بارے میں پارٹی کی کیا رائےہے اور اس سے کیا نقصان ہوگا؟
مسلم لیگ ن نے ہی سب سے پہلے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ووٹ کے حق کی آواز اٹھائی ہے اور کوشش کی ہے۔
اور یہ مسلم لیگ ن کا ہی خاصہ رہا ہے کہ اس کی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی دی ہے۔اور اس وقت بھی بہت سارے اوورسیز پاکستانی رکن اسمبلی ہیں اور سینٹر بھی ہیں اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے کام کرنے والے اداروں کے ہیڈ بھی اوورسیز پاکستانیوں کو ہی لگایا گیا ہے۔ 80 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو ہر صورت ووٹ کا حق ملنا چاہیے اور اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن سویڈن بھی آواز اٹھاتی رہی ہے اور آواز اٹھاتی رہے گی۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آپکی پارٹی کی کیا پالیسی ہے؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اب دوبارہ مسلم لیگ ن کی حکومت بنتی ہے تو مسلم لیگ ن اپنے منشور کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر منتخب کرے گی۔
مسلم لیگ ن کی حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے میں اہم قردار ادا کرے گی۔
مسلم لیگ ن کی حکومت او پی ایف اور پی او سی جیسے اداروں کو مزید فعال کرے گی اور اس کا دائرہ کار پاکستان کے دوسرے صوبوں تک بڑھائےگی۔ تاکہ بیرون ملک رہنے والے سندھ بلوچستان کے پی کے گلگت بلتستان کے علاقہ کے لوگ بھی اور زیادہ اچھے طریقے سے ان اداروں سے مستفید ہو سکیں اور اپنے مسائل حل کروا سکیں۔

سید محمد علی، ایکس-کنٹری کورڈینیٹر سویڈن – پاکستان تحریک انصاف

آپ یا آپکی پارٹی آنے والے الیکشن کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
پاکستان جن حالات میں گھرا ہوا ہے ان کو یکسر بدلنا آسان نہیں ہے ان حالات میں ٢٠١٨ کا الیکشن پاکستان کی سمت بدلنے کا ایک اہم موقع ہے۔ پاکستان کو معاشی بدحالی اور لاقانونیت کے دلدل سے نکالنےاور پوری قوم کو متحرک کرنے کے لئے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو معتبر ہو جس کا وژن واضح ہو۔
آپ یا آپکی پارٹی کو الیکشن کی شفافیت پر کتنا اعتماد ہے؟
پاکستان کے الیکشن کے نظام میں بہت سا ری کمزوریاں ہیں اور بہت زیادہ بہتری کی گنجائش ہے ، بدقسمتی سے مختلف حکومتوں نے پچھلے ٧٠ سالوں میں اس کو پہتر کرنے کی زیادہ کوشش بھی نہیں کی جن کی وجہ سے شفافیت پر سوال تو رہیں گے۔ مگر پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کا ماضی میں انہی وجوہات پر بائیکاٹ بھی کیا ، مگر اس سے باہر رہ کر بھی اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہمیں بہر حال اس نظام کا مقابلہ بھی کرنا اور اس کو بدلنا بھی ہے
آپکی پارٹی آنے والے الیکشن میں کیا اور کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے؟
ضرورت عوام کو ایجوکیٹ کرنے کی ہے۔ خصوصاً دیہی علاقوں میں یہ ہمیشہ سے چیلنج رہا ہے جہاں شخصیات کا اثر بہت ہے
٢٢ سال کی جد و جہد کے بعد امید ہے اس الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف واضح اکثریت حاصل کر پائے گی انشااللہ
اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ ملنے کے بارے میں پارٹی کی کیا رائےہے اور اس سے کیا نقصان ہوگا؟
اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے سب سے زیادہ کوشش کی ہے۔ اورسیز ای ووٹنگ کے لئے
یعنی انٹرنیٹ کے زر یعے ووٹ کا طریقہ متعا رف کی کیا گیا جس کا سافٹ ویئر خود نادرا نے بنا رکھا ہے جس میں نیکوپ تصدیق ہو جانے کے بعد تمام اورسیز پاکستانی با آسانی اپنا حق را ئیے دہی استمعال کر سکتے ہے ہم سپریم کورٹ میں ایک لمبے عرصے سے کیس بھی لڑ رہے ہیں، مگر پچھلی حکومت نے جان بوجھ کر تاخیری ہربے استعمال کرتے ہوئےاس بار بھی اس کو التواکا شکار بنا دیا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے ٩ ملین اوورسیز پاکستانی جن میں سے ٦ ملین سے زائد ووٹ دینے کا حق رکھتے ہیں اور ان کی اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی حمایتی ہے۔ اسی خوف کے پیش نظر تمام اوورسیز پاکستانیوں کو اس سے محروم رکھ کر سزا دی گئی ہے – جب تک حکومتیں الیکشن کو سستا اور آسان بنانے کے اقدامات کرنے سے پہلو تہی کرتی رہیں گی بدقسمتی سے پاکستانی الیکشن میں الیکٹیبلزمجبوری بنے رہیں گے
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آپکی پارٹی کی کیا پالیسی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف نہ صرف اورسیز پاکستانیوں کو حق را ئے دیہی دینے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کے حالات تبدیل کرنے میں اورسیز پاکستا نیوں کا ایک کلیدی کردار ہو گا پاکستان میں کارجوئی کے ذریعے ایک سازگار ماحول بنایا جا سکتا جس میں اورسیز پاکستا نیوں کا تجربہ اور سرمایہ کاری دو طرفہ فوائد پر مبنی پالیسی بنایں گے عنقریب پاکستان تحریک انصاف اس پر ایک تفصیلی پلان دے گی انشاءللہ۔ بیرون ملک مقیم پاکستا نیوں کی عزت براہ راست طور پر پاکستان کے وقار سے وابستہ ہے پاکستان میں اداروں کو مضبوط کرنے سے اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.