24

کرکٹ میں کرپشن کا عفریت کا سر نہ کچلا جا سکا

کئی پلیئرزاورآفیشلزکوسزائیں دینے کے ساتھ کچھ کو بے قصور بھی قرار دیا گیا، 2 اسٹنگ آپریشنز میں سے ایک کی فائل بند۔ فوٹو:فائل

کئی پلیئرزاورآفیشلزکوسزائیں دینے کے ساتھ کچھ کو بے قصور بھی قرار دیا گیا، 2 اسٹنگ آپریشنز میں سے ایک کی فائل بند۔ فوٹو:فائل

دبئی: کرکٹ میں کرپشن کے عفریت کا سر نہ کچلا جا سکا،آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے 13 فکسنگ معاملات کی تحقیقات بدستور جاری ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کرپشن معاملات پر اینٹی کرپشن یونٹ کی کارکردگی سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کردی گئی، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کرپشن سے نمٹنے کے حوالے سے حکمت عملی میں تبدیلی کے بعد اب 13 معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔

اینٹی کرپشن یونٹ کے نئے چیئرمین الیکس مارشل نے اپنی ذمہ داری کا آغاز ستمبر میں کیا تھا جبکہ یہ رپورٹ جون 2017 سے رواں برس مئی کے اختتام تک کی ہے، اس دوران مجموعی طور پر 18 معاملات کی تحقیقات شروع کی گئیں،ان میں سے 5 کو نمٹایا جا چکا اور چار کا نتیجہ ذمہ داریوں پر الزامات عائد ہونے کی صورت میں برآمد ہوا، اب 13 معاملات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، ان میں سے بھی 5 معاملے ان لوگوں سے متعلق ہے جوکرکٹ سے براہ راست منسلک نہیں،مگر انھوں نے کھیل میں کرپشن کی کوشش کی، ان کے منصوبوں کو پہلے ہی ناکام بنایا جا چکا ہے۔

اپنی سالانہ رپورٹ میں آئی سی سی کا کہنا تھاکہ یہ بات خاص طور پر دھیان میں رکھنے کی ہے کہ جہاں کچھ لوگوں پر مختلف چارجز عائد کیے گئے وہیں بہت سے افرادکو بے قصور بھی قرار دیا گیا، یہ تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ کسی بھی کھلاڑی کی معصومیت اہمیت رکھتی ہے۔ میڈیا اسٹنگ آپریشنز پر سامنے آنے والے 2کیسز پر تحقیقات شروع کی گئیں، ان میں سے ایک میں گراؤنڈ مین اور چند پلیئرز کو بے قصور قرار دیا گیا جبکہ دوسرے کی تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ یہ اسٹنگ آپریشن قطر کے الجزیرہ چینل نے کیا تھا اور اپنی رپورٹ مئی میں نشر کی،اس نیٹ ورک کی جانب سے تمام معلومات آئی سی سی کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی تھیں۔

کونسل کا کہنا تھا کہ کرپشن کے حوالے سے بورڈز میں معلومات کے تبادلے سے کافی مدد ملی ہے،گورننگ باڈی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب مشکوک حرکات اور روابط کی رپورٹس میں اضافہ ہورہا ہے، چار انٹرنیشنل کپتانوں نے بھی اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ کیا، جنوبی ایشیا کی غیرقانوی سٹہ مارکیٹ بدستور کرپشن کا گڑھ ہے۔ اسی طرح ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹس بھی کرپشن فائٹرز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، آئی سی سی نے اسی وجہ سے ان لیگز کے لیے اینٹی کرپشن کے حوالے سے کم سے کم معیار مقرر کرنے کا پلان بھی بنایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.