138

میرا خط: دوست کہاں ملتے ہیں – شکیل خان شکو

اسلام و علیکم ،

تقریباً ایک مہینے بعد آپ کو خط لکھنا ایک اتفاق نہیں ضرورت ہے ، آپ کو شاید علم ہو کے میاں شہزاد بھی 6 مہینے قبل وطن چھوڑ کر یورپ میں جا بسے ، انکی ہجرت نے ہمیں بہت اکیلا کر دیا ، جب وہ یہاں موجود تھے تو اکثر ہفتے کے روز ہم ٹہلتے ہوئے برنس روڈ پر جا کر میٹھے دہی بڑے کا مزہ لیا کرتے تھے ، شام کی چائے پر ملک کے حالت پر گفتگو ہوتی تھی ، کچھ شکوے کچھ شکایتیں اپنے دیس سے کر کے دِل ہلکا اور کلیجہ ٹھنڈا کر لیا کرتے تھے . ہاں یاد آیا اکثر دفتر سے واپسی پر وہ ہمارے لیے جیل چورنگی کے نواب میاں کی دکان سے پان بھی لالے آیا کرتے تھے.

جو بن کہے د عا کر تے تھے
کہاملتےہیں دوست ، جو ملا کرتے تھے

اب نا تو شام کی چائے میں وہ لذت ہے اور نا ہی نواب میاں کے پان میں وہ مزہ …
آخری ملاقات میں شہزاد نے کہا کے اب ہم دور جا رہے ہیں ، اب نا تو چھٹی کے دن ہم ٹہل پر جا پاینگے اور نا ہی شام کی چائے پر مذاکرات ہونگے ہاں البتہ کبھی کبھی خط یا ٹیلیفون کے ذریعے خیریت طلب کر لینگے ، اور یہ بھی تجویز کی کہ اب میں کچھ نئے دوستو سے ملوں ، اب بھلا تم ہی بتاؤ یہ دوست کہا ملتے ہیں ؟
بہر حَل میں یہ مسئلہ لے کر اپنے پڑوسی ایڈوکیٹ شہاب صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے ایک (Internet website)انٹرنیٹ ویب سائٹ فیس بک (Facebook) کا مشورہ دیا . اور کہا کے اسٹیٹس (Status) یعنی کچھ نا کچھ لکھتے رہنا ، لوگ مل جایینگے ، دوست بن جاینگے .

بڑی مشکل درپیش آئی ، ایک صفحہ جس کو پروفائل (Profile) کہتے ہیں تخلیق کیا اور ایک تصویر بھی لگائی ، پِھر کئی روز گزر گئے لیکن کسی نے ہمیں نہ دعا دی نہ سلام کیا . یہ ویب سائٹ اتنی پیچیدہ تھی کے گھنٹوں گزر جاتے تھے اور ہماری بدی میں کچھ نہیں آتا تھا ، اکثر تو نماز بھی قضا ہو جاتی تھی ، توبہ ہو ایسی سائنس اور ٹیکنالوجی سے جو ایک مسلمان کو عبادت سے گمراہ کرے .

ہاں تو میں بتا رہا تھا جب کوئی رقیب کوئی یار نہ ملا تو اِس فیس بک (Facebook) کی دنیا سے باہر آ کر دوست کی تلاش کا سوچا چونکہ یہ تلاش پہلے بھی رہ چکی تھی اور فقط مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا تھا تو سوچا کیوں نا فیس بک (Facebook) والا ہی ٹوٹکا اپنی عام زندگی میں آزمایا جائے ، تو ہم نے کمر باندھ لی اور روزانہ بلا ناغہ اپنے مکان کے باہر کھڑے ہو کراسٹیٹس (Status) لگاتے رہے یعنی ہر راہ گیر کو یہ اطلاع کرتے رہے کہ آج ہم نے کیا کیا ، کل شام کیسی گزری ، کل رات کیا کھایا اور ہمارے مستقبل کے کیا منصوبے ہیں . اکثر ہم اپنے پرانے دوستو اور سفر کی تصاویر بھی دکھایا کرتا تھے ، لوگ لائک (Like) یعنی پسند بھی کرتے تھے ، سوچا کوئی دوست بنے گا لیکن معاملہ تو کچھ ایسا ہُوا کے ہمیں 3 لوگوں نے فولو (Follow) کرنا شروع کر دیا ، اور جانتے ہیں کون ہیں ، دو پولیس والے اور ایک ماہر نفسیات . اب بھلا کیا ہم نفسیاتی ہو گیے؟ تو میاں شکو یہ خط لکھنے کا مقصد آپ سے مدد مانگنا تھا ، اب آپ ہی بتایے کہ یہ دوست کہاں ملتے ہیں؟

تمہارا دوست
شکیل خان شکو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں