34

قومی ہاکی ٹیم میں تبدیلی آنے لگی، کوچ کا دعویٰ

بہتری کی جانب رواں دواں ہیں، مستقبل قریب میں کامیابیوں کا سفر شروع ہوجائے گا، محمد ثقلین۔ فوٹو: فائل

بہتری کی جانب رواں دواں ہیں، مستقبل قریب میں کامیابیوں کا سفر شروع ہوجائے گا، محمد ثقلین۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ محمد ثقلین نے کہاکہ قومی ہاکی ٹیم میں تبدیلی آنے لگی اوروہ بہتری کی جانب رواں دواں ہے۔

نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ہاکی ٹیم میں مڈفیلڈر کھلاڑی رہنے والے محمد ثقلین نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم بتدریج بہتر اور اس کی مجموعی کارکردگی میں آہستہ آہستہ اضافہ ہورہا ہے، پی ایچ ایف کی جانب سے ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی کوچ اولٹمنز کی خدمات حاصل کرنا بہت سود مند ثابت ہوا، ان کی آمد نے پاکستان ہاکی ٹیم میں ایک نئی روح پھونک دی، دنیا بھر میں اپنی کوچنگ کے سبب مقبولیت رکھنے والے اولٹمنز قومی کھلاڑیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریننگ دے رہے ہیں جس کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے۔

محمد ثقلین نے کہا کہ یہ امر خوش کن ہے کہ ہماری ٹیم کے کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی میں تیزی سے بہتری آرہی ہے، بدقسمتی سے ہم اپنی ہاکی بھول گئے تھے لیکن اب ہماری ہاکی واپس آرہی ہے، کھلاڑیوں کی تکنیک میں زیادہ مسائل نھیں، البتہ ان کی فٹنس کے حوالے سے مشکلات ضرور ہیں لیکن اپنائے جانے والے لائحہ عمل کی بدولت یہ معاملہ بھی حل ہوتا چلا جارہا ہے، جلد ہی پاکستان ہاکی ٹیم جیت کے راستے پر چل نکلے گی۔

انھوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں بحیثیت مجموعی پاکستان کی کارکردگی بہتر رہی، تکنیکی اعتبار سے پاکستان کو فائدہ ہوا، اپنے سے زیادہ بہتر عالمی رینکنگ کی حامل ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے اور ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔

4 مرتبہ چیمپئنز ٹرافی اور 3 بار اذلان شاہ انٹرنینشل ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 40 سالہ محمد ثقلین نے کہاکہ کامیابی کے راستے پر گامزن ہونے کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم کی جدید خطوط پر تربیت کا عمل جاری ہے، ڈیفنس کے شعبے کو مضبوط تر بنایا جارہا ہے، دفاعی کھلاڑیوں کی پاسنگ کی صلاحیت بڑھی ہے، ان کو آگے بڑھ کر مڈ فیلڈرز کی سپورٹ کے لیے تیار کیا جارہا ہے، اس طرح کمیونیکشن بہتر ہونے سے فارورڈ لائن کو فائدہ ملے گا، اٹیک ہاکی کو تقویت دی جارہی ہے، گول کرنے کے ملنے والے مواقعوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی پر عمل کیا جارہا ہے، اس کے ساتھ دوران کھیل زیادہ سے زیادہ پنالٹی کارنرز کے حصول پر بھی توجہ ہے، کھلاڑیوں کو تیار کیا جارہا ہے تاکہ وہ حریف ٹیموں کے خلاف دباؤ میں آنے کی بجائے جارحانہ طرز کی ہاکی اپنائیں اور مد مقابل کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ غلطیوں پر مجبور کریں۔

ایک سوال کے جواب میں 2، 2 مرتبہ ایشیا کپ اور کامن ویلتھ گیمز میں قومی اسکواڈ کا حصہ رہنے والے محمد ثقلین نے کہا کہ دورۂ ہالینڈ میں گول کیپنگ کے شعبے کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کار گر رہی، ہالینڈ کے گول کیپنگ کوچ کی تربیت سے بہت فائدہ ہوا، سابق قومی گول کیپر کپتان  ریحان بٹ کی موجودگی سے بھی پاکستان ٹیم کو فائدہ پہنچ رہا ہے، ان کے چھوٹے بھائی عمران بٹ کی صورت میں پاکستان کا تجربہ کار گول کیپر واپس آیا، عمران نے چیمپئنز ٹرافی میں شاندار کارکردگی پیش کرکے ثابت کردیا کہ وہ مستقبل میں پاکستان ہاکی کا قیمتی اثاثہ ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد ثقلین نے کہا کہ انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں شیڈول ایشین گیمز میں پاکستان ہاکی ٹیم سے بہت توقعات ہیں، پوری کوشش ہوگی کہ ہاکی ٹائٹل جیت کر اگلے اولمپک گیمز میں رسائی کو ممکن بنایا جائے، اگر ایسا ہوگیا تو اپنے کھوئے ہوئے عالمی مقام کو پانے کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم کا سفر تیز تر ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.