34

فٹبال کا نیا عالمی چیمپئن کون؟

فیصلہ کن جنگ آج ہوگی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

فیصلہ کن جنگ آج ہوگی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

کروشیا یورپ کا چھوٹا سا ملک ہے، رقبہ محض56594 کلومیٹر اور آبادی 41 لاکھ 54 ہزار افراد پر مشتمل ہے، زغرب اس کا دارالحکومت ہے، دیکھنے کو تو یہ چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس میں بسنے والے شہری کچھ نہ کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار ضرور رہتے ہیں، زیادہ دور جانے کی بات نہیں، روس میں جاری فیفا ورلڈ کپ کو ہی دیکھ لیں، کروشین فٹبال ٹیم کی غیر معمولی کارکردگی ان دنوں دنیا بھر میں موضوع بحث ہے۔

ایسے وقت میں جب لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو سمیت دنیائے فٹبال کے سٹار کھلاڑیوں کی ٹیمیں ورلڈ کپ سے باہر ہو چکیں، دفاعی چیمپئن جرمنی کی ٹیم بھی اس بار اپنے کھیل کے جوہر نہ دکھا سکی اور میکسیکو کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کے بعد میگا ایونٹ سے پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئی، انگلینڈ نے 28 سال کے طویل عرصہ کے بعد سیمی فائنل میں قدم ضرور جمائے تاہم ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد اسے بھی ٹائٹل کی دوڑ سے محروم ہونا پڑا، ایسے میں کروشیا کی فٹبال ٹیم کا عالمی کپ کے ٹائٹل مقابلے کے لئے کوالیفائی کرنا کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔

جب قارئین یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے، ٹھیک اسی رات8 بجے کروشیا اور فرانس کی ٹیمیں فائنل میں ایک دوسرے کے خلاف ایکشن میں دکھائی دے رہی ہوں گی۔ اگر فٹبال ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کروشیا کی ٹیم فیفا عالمی رینکنگ میں 20 ویں نمبر پر ہے۔ اس ٹیم نے پہلی مرتبہ 1998میں فرانس میں منعقدہ فٹ بال عالمی مقابلوں میں شرکت کی اور اب تک کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جگہ پکی کی، فٹبال ورلڈ کپ میں ٹیم کی اچھی کارکردگی کے ساتھ کروشیا کی صدر کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لئے پیش پیش ہیں۔

عالمی کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں کروشیا نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد برطانیہ کو ایک گول کی برتری سے شکست دی تو اس شاندار فتح کے بعد کروشیا کی خاتون صدر کولنڈا گرابر کیٹارووک اپنی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں گئیں اور ہر کھلاڑی کو گلے سے لگایا۔ان کا یہ منفرد سٹائل ایسا ہٹ ہوا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین نے اسے کروشیا کی ٹیم کی مسلسل فتوحات کا اصل راز قرار دے ڈالا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد کوشیائی صدر کو اپنی ٹیم کے ساتھ آنے والی کوئی ماڈل یا اداکارہ سمجھتے رہے ہیں۔

جب روس کو کروشیا نے پنلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دی تو ایک بار پھر وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور سب کھلاڑیوں کو گلے لگا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ایک کے بعد ایک میچ میں یہ منظر دیکھنے والے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ خاتون صدر کی ’جادو کی جپھی ہی وہ اصل چیز ہے جو کروشیا کی ٹیم کو فائنل تک لے آئی ہے۔فرانس کی فٹ بال ٹیم کا شمار براعظم یورپ کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے۔

فیفا کی عالمی رینکینگ میں فرانس 7 ویں نمبر پر ہے۔ فرانس کی ٹیم 1930ء میں ہونے والے پہلے عالمی مقابلوں سے ورلڈ کپ میں شرکت کر رہی ہے تاہم پہلی بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز 1998ء میں اس کے حصے میں آیا،اس کے بعد 2006ء کے عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ میں اس کو اٹلی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب میگا ایونٹ کے پہلے سیمی فائنل میچ میں بیلجیئم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 1-0 سے شکست دیکر فائنل میں پہنچی ہے۔

کروشیا کی ٹیم کے سٹار پلیئر لوکا موڈرک ہیں جن کا شمار دنیا کے بہتر ین مڈفیلڈرز میں ہوتا ہے اور ٹیم کا تمام تر انحصار اسی کھلاڑی پر ہے۔موڈرک کے علاوہ ایوان ریکی ٹک کا شمار بھی ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو حریف کیلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ فرانس کی ٹیم انتھونی مارشل، انتیوئنی گرزمین اور الیگزینڈر لیکازیٹی کے ساتھ زبردست جارحانہ کھیل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کروشیا اور فرانس کی ٹیموں کے درمیان اتوار کو شیڈول فائنل میچ کی فاتح کون سی ٹیم ہو گی، اس حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے، فٹبال کے پنڈتوں کے مطابق ٹائٹل مقابلے کے لئے فرانس کی ٹیم جیت کے لئے فیورٹ ضرور ہے تاہم کروشیا نے ٹیم سپرٹ کا مظاہرہ فیصلہ کن مقابلے کے دوران بھی کیا تو وہ پہلی بار فٹبال کا عالمی چیمپئن بننے میں کامیاب رہے گی۔

مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ انتہائی سخت اور کانٹے دار ہوگا اور شائقین فٹ بال کو بہت اچھا فائنل میچ دیکھنے کو ملے گا۔فٹ بال کی تاریخ میں تیسری مرتبہ میگا ایونٹ کے فائنل میں پہنچنے والی فرانس کی فٹ بال ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز کھلاڑی ہیوگو للورس کا کہنا ہے کہ دوسری مرتبہ عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ جیتنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دیں گے، میگا ایونٹ کا ٹائٹل جیت کر ملک و قوم کو تحفہ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم میگا ایونٹ کے فائنل کوالیفائی کرنے پر بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کروشیا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کریں گے۔ ہیوگو للورس کے مطابق بیلجیئم کے خلاف کامیابی ٹیم کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ تھی، وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی پر مطمئن ہیں تاہم انہوں نے اپنی ٹیم کو خبردار کیا ہے کہ میگا ایونٹ کے فائنل میں پوری ٹیم کو اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناکر کامیابی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانا ہوگی۔

ادھر کروشیا کی فٹ بال ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز میڈفیلڈر کھلاڑی لوکا موڈریک نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم بھرپور فارم میں ہیں اور فرانس کے خلاف فائنل میچ کے لئے میدان میں اترنے کو بے تاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کو شکست دیکر فٹ بال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ فرانس کی ٹیم ایک مرتبہ عالمی کپ جیت چکی ہے تاہم اس سے ٹیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا، انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم متحد ہے،ان کے مطابق انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل سے قبل بھی لوگ انگلینڈ کی فیور میں تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلینڈ کی ٹیم ایک مضبوط ٹیم ہے لیکن سیمی فائنل میں پوری ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کی ٹیم کے خلاف بھی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے کامیابی حاصل کریں گے۔

پاکستان کی ٹیم فٹبال ورلڈ کپ کیلئے کب کوالیفائی کرے گی یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن مقابلوں کیلئے استعمال ہونے والی فٹبال پاکستان سے تیار ہوکر جاتی ہیں اور یہ ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ رواں عالمی کپ میں پاکستان کو ایک اور اعزاز حاصل ہوا جب سیالکوٹ کے 15 سالہ احمد رضا نے برازیل اور کوسٹاریکا کے درمیان ہونے والے میچ میں ٹاس کا سکہ اچھالا۔ احمد فٹبال کے بین الاقوامی میچ کے دوران میدان کی پچ پر قدم رکھنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔

احمد کا خاندان 3 نسلوں سے فٹبال بنانے کے کام سے منسلک ہے، گو پاکستان کی فٹبال ٹیم عالمی کپ کا حصہ تو نہیں ہے لیکن شائقین میں عالمی ایونٹ کے مقابلوں کاجنون عروج پر رہا، اب ایک بار پھر پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کی نظریں ورلڈ کپ کے فائنل مقابلے پر مرکوز ہیں، ٹورنامنٹ کے فائنل کا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو لیکن ایک بات تو طے ہے کہ رواں عالمی کپ 2018ء نے میدان کے اندر اور ٹی وی پر دیکھنے والے دنیا بھر کے شائقین کو تفریح کے مواقع ضرور فراہم کئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.