22

شوگر کے مریضوں اور موٹاپے کے شکار افراد کے لیے کامیاب ترین ڈائیٹ پلان

اس ڈائیٹ میں سب سے زیادہ مقدار چربی اور سب سے کم لحمیات کی ہوتی ہے۔ فوٹو : فائل

اس ڈائیٹ میں سب سے زیادہ مقدار چربی اور سب سے کم لحمیات کی ہوتی ہے۔ فوٹو : فائل

صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا سب سے ضروری اور اہم عنصر ہے جس کے لیے لوگ مختلف غذاؤں پر مشتمل ڈائیٹ پلان پر عمل کرتے ہیں جس میں ایک ’کیٹو جینک ڈائیٹ پلان‘ بھی ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے موزوں ترین ڈائیٹ پلان ہے۔

عمومی غذا جو ہم کھاتے ہیں اس میں پروٹین، لحمیات اور چربی بنیادی اجزاء ہیں جن کی مقدار پر نظر رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے ورنہ افزائش اور جراثیم کے خلاف مدافعتی طاقت کے حصول میں پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ماہرین غذائیت کی جانب سے ترتیب دیا گیا ’کیٹو جینک ڈائیٹ پلان‘ انسانی جسم کو درکار توانائی کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔

ketogenic 2

کیٹوجینک ڈائیٹ میں چربی کی زیادہ مقدار، پروٹین نہایت کم اور لحمیات کی قلیل ترین مقدار لی جاتی ہے اور یہ تمام اجزاء قدرتی طور پر حاصل کیے جاتے ہیں جیسے مچھلی، انڈے، پنیر اور خشک میوہ جات وغیرہ اہم ذرائع ہیں۔ اسے کیٹوجینک کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیوں کہ اس ڈائیٹ کے ذریعے جسم لحمیات کے بجائے چربی سے توانائی حاصل کرتا ہے۔

یہ ڈائیٹ پلان زیادہ تر ذیابیطس کے مریضوں اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کو تجویز کیا جاتا ہے کیوں کہ لحمیات کی کم مقدار لینے کی وجہ سے شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔ تاہم عین ممکن ہے کہ اس ڈائیٹ پلان سے جسم میں کسی ایک غذائی جز کی کمی واقع ہو سکتی ہے اس لیے مندرجہ ذیل جسمانی تبدیلیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مثبت اثرات 

کیٹوجینک ڈائیٹ میں کاربوہائیڈریٹس کی نہایت کم مقدار ہونے کی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں میں شوگر کنٹرول میں رہتی ہے اور لحمیات کی کم مقدار کی وجہ سے جسم کاربوہائیڈریٹس کے بجائے چکنائی یعنی Fats سے توانائی حاصل کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے چربی جسم کا حصہ بننے کے بجائے توانائی کے خامروں میں تبدیل ہوجاتی ہے یوں وزن نہیں بڑھتا۔ اس لیے اس ڈائیٹ کو ذیابیطس کے مریضوں اور وزن کم کرنے کے خواہش مند فربہ افراد کے لیے موزوں ترین ڈائیٹ پلان کہا جاتا ہے۔

منفی اثرات

کیٹوجینک غذاء لینے والے افراد کی سانس میں بدبو پیدا ہوسکتی ہے جس کی بنیادی وجہ نظام ہاضمہ کا چربی یا چکنائی کو ہضم کرکے توانائی میں تبدیل کرنا ہے ایسا کرنے کی وجہ سے سانس میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے تاہم کچھ عرصے بعد یہ معمول پر آجاتا ہے۔

اسی طرح اس ڈائیٹ میں لحمیات کی نہایت قلیل مقدار شامل ہونے کی وجہ سے سارا دن تھکاوٹ کا احساس بھی رہ سکتا ہے اور پروٹین کی قدرے کم مقدار کی وجہ سے جسم کے پٹھوں میں درد اور کھنچاؤ رہتا ہے اسی طرح نظام ہاضمہ بھی خراب رہ سکتا ہے تاہم یہ تمام منفی اثرات کچھ دنوں بعد زائل ہوجاتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.