18

شادی شدہ جوڑے ذیابیطس کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرتے ہیں

ذیابیطس میں مبتلا جوڑے ایک سا طرز زندگی اپنانے کے باعث زیادہ بہتر طور پر شوگر کنٹرول کر پاتے ہیں (فوٹو: فائل)

ذیابیطس میں مبتلا جوڑے ایک سا طرز زندگی اپنانے کے باعث زیادہ بہتر طور پر شوگر کنٹرول کر پاتے ہیں (فوٹو: فائل)

نیویارک: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوں تو شوگر لیول زیادہ بہتر طریقے سے کنٹرول کر پاتے ہیں تاہم اگر کسی ایک کو ذیابیطس ہو تو شوگر کنٹرول کرنے کا عمل کم ہوجاتا ہے۔

سائنسی اور تحقیقی جریدے اینلز آف فیملی میڈیسن میں شائع ہونے والے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کے مریض جوڑے ( میاں، بیوی) زیادہ بہتر طور پر خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھ پاتے ہیں، اگر دونوں میں سے کوئی ایک ذیابیطس کا مریض ہو تو شوگر کنٹرولنگ کا عمل زیادہ بہتر دیکھنے میں نہیں آیا جس کی بنیادی وجہ ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے سب سے ضروری عنصر ’ طرز زندگی‘ ہے۔

Diabetic 2

تحقیق کاروں نے 1 لاکھ 80 ہزار ذیابیطس کے نئے مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ چیک کیا یہ تمام مریض ازواجی جوڑے تھے یعنی میاں بیوی دونوں شوگر کے مرض کا شکار تھے۔ چوں کہ گھر کے دونوں کپتان ایک ہی مرض میں مبتلا تھے اس لیے طرز زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے زیادہ مشقت نہیں اُٹھانا پڑی ایک جیسی غذا اور ایک سے معمولات زندگی کی انجام دہی کی بناء جوڑے کا شوگر لیول کنٹرول میں رہا۔

Diabetic 3

اس کے برعکس ایسے مریضوں جن میں میاں بیوی میں سے کسی ایک کو شوگر کا مرض لاحق تھا اُن میں شوگر کنٹرول کرنے کا عمل اچھا نہیں رہا جس کی بنیادی وجہ طرز زندگی کا ایک سا نہ ہونا تھا۔ گھر میں مختلف خوراک کی عادات، طرز زندگی اور ضروریات میں فرق کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پائے۔

Diabetic 4

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل خانہ میں سے کسی ایک کو ذیابیطس ہوجائے تو دیگر افراد کو بھی اپنے طرز زندگی کو مریض کی مناسبت سے تبدیل کرنا چاہیے تاکہ مریض کو حوصلہ اور ہمت بھی ملتی رہے اور وہ خود کو گھر کے ماحول سے بیگانہ محسوس نہ کرے۔

Diabetic 5

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.