32

زمبابوے کے خلاف ون ڈے سیریز

ایشیا کپ سے قبل تجربات کا اچھا موقع۔ فوٹو: اے ایف پی

ایشیا کپ سے قبل تجربات کا اچھا موقع۔ فوٹو: اے ایف پی

دنیائے کرکٹ کو حیران کرتے ہوئے انگلینڈ میں چیمپئنز ٹرافی پر قبضہ جمانے والی پاکستان ٹیم نے یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں کھیلے جانے والی ون ڈے سیریز میں سری لنکا کو بھی کلین سویپ کرلیا تو شائقین کارکردگی میں تسلسل آنے کی امیدیں وابستہ کر بیٹھے۔

رواں سال کے آغاز میں دورہ نیوزی لینڈ کا آغاز ہوا تو سب کو اندازہ تھا کہ میزبان ٹیم کو زیر کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن اتنی توقع ضرور تھی کہ کم از کم ٹیم لڑتی ضرور نظر آئے گی، ویلنٹگن میں کھیلے گئے پہلے میچ میں ناکامی ہوئی تو امیدیں باندھی گئیں کہ تیز ہواؤں اور خراب موسم کی وجہ سے پریشان مہمان ٹیم اگلے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، دوسری، تیسری، چوتھی اور پھر ویلنگٹن میں ہی پانچویں شکست تک ٹاپ آرڈر کی فارم میں واپسی اور ٹیم کی جانب کم بیک کا انتظار ختم نہ ہوا اور سیریز ختم ہوگئی۔

ہوم ورک کمزور ہونے کی وجہ سے کھلاڑی ذہنی اور جسمانی طور پر حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں تھے، تسلسل کے ساتھ ایشیائی کنڈیشنز میں لوباؤنس والی پچز پر سری لنکا کے خلاف سیریز اور ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شاندار کارکردگی دکھانے والے پاکستانی کرکٹرز پیس، باؤنس اور سوئنگ سے گھبرا کر مچل سینٹر اور ٹوڈ ایسٹل جیسے کلب سطح کے سپنرز کو بھی ڈھنگ سے نہ کھیل پائے،خاص طور پر ٹاپ آرڈر بری طرح فلاپ ہوئی،فخرزمان اور حارث سہیل کی ایک دو اننگز کے سواکسی نے ثابت قدمی نہیں دکھائی،بولرز بھی رنگ نہ جماسکے۔

ورلڈکپ 2019ء کیلئے مضبوط سکواڈ تشکیل دینے کے پلان پر کاربند پاکستان ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد کوئی ون ڈے سیریز نہیں ملی،کھلاڑیوں کو پی ایس ایل، ویسٹ انڈیز اور سکاٹ لینڈ کے خلاف سیریز میں صرف ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا، زمبابوے میں سہ ملکی ایونٹ بھی اسی فارمیٹ کا تھا، گرین شرٹس نے سازگار کنڈیشنز میں روبن لیگ مرحلے میں آسٹریلیا سے ایک میچ میں شکست کے بعد کم بیک کرتے ہوئے نہ صرف دوسرے مقابلے میں کامیابی سمیٹی بلکہ فائنل میں بھی ایک بڑا ہدف عبور کرتے ہوئے ٹائٹل پر قبضہ جما لیا۔

زمبابوے کے خلاف 5ون ڈے میچز کی سیریز میں پاکستان کو ہر لحاظ سے فیورٹ قرار دیا گیا،محدود اوورز کی کرکٹ میں گرین شرٹس کی موجودہ فارم اور تنخواہوں کے تنازع کی وجہ سے کئی اہم کرکٹرز سے محروم میزبان ٹیم کی قوت کو دیکھتے ہوئے یکطرفہ مقابلوں کی توقع ظاہر کی گئی، پہلے میچ میں اس کی ایک جھلک بھی نظر آگئی، پاکستان کی فتح کا مارجن دیکھتے ہوئے بظاہر یہ ایک بہت آسان مہم محسوس ہوتی ہے لیکن اس میں بہتر پلاننگ، ٹاپ آرڈر کے صبروتحمل اور کسی حد تک خوش قسمتی کے عمل دخل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

صبح کے وقت ابر آلود موسم میں ٹاس ہارنے کے بعد بیٹنگ کی دعوت ملنا گرین شرٹس کیلئے ایک مشکل امتحان تھا،موزار بانی اور ٹینڈائی چتارا نے کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کیلئے بہترین لائن اور لینتھ پر بولنگ بھی کی،امام الحق اور فخرزمان پریشان بھی رہے،کئی خطرناک گیندیں بیٹ کا کنارا لیتے ہوئے بھی گئیں،ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیلیں بھی ہوئیں،خوش قسمتی کا دخل اپنی جگہ دونوں اوپنرز کو اس لئے داد دینا چاہیے کہ انہوں نے کریز پر قیام طویل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی،اس صبرکا پھل بھی ملا جب 10اوورز کے بعد کنڈیشنز بہتر ہونے لگیں۔

سورج نکلا تو آنے والے دیگر بیٹسمینوں کو بھی سٹروکس کھیلنے میں آسانی ہوئی،انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران کلائی کی انجری کا شکار ہونے کے بعد کم بیک کرنے والے بابر اعظم کی اننگز زیادہ طویل نہیں تھی، تاہم اچھی فارم میں نظر آئے،شعیب ملک بھی زیادہ حصہ نہیں ڈال سکے لیکن آصف علی نے ون ڈے کرکٹ میں اپنا ڈیبیو یادگار بنایا،سہ ملکی سیریز میں ٹیم کیلئے کئی کارآمد اننگز کھیلنے والے بیٹسمین نے اس بار بھی مایوس نہیں کیا اور صرف 25گیندوں پر 46رنز بنائے، اگر ایک بڑا سٹروک مزید لگانے میں کامیاب ہو جاتے تو ڈیبیو پر تیزترین ففٹی کا عالمی ریکارڈ قائم کر سکتے تھے۔

آصف علی پاکستان ٹیم میں پاور ہٹر کی کمی پوری کرتے نظر آرہے ہیں، ایشیا کپ میں بھی ان سے بہتر کارکردگی کی توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں، بہتر ہوگا کہ مختلف کنڈیشنز کا تجربہ دلانے کیلئے ورلڈکپ سے قبل انہیں انگلینڈ میں لیگ یا کاؤنٹی کھیلنے کے مواقع فراہم کئے جائیں،پاکستان ٹیم مینجمنٹ زمبابوے کے خلاف سیریز میں محمد حفیظ اور یاسرشاہ سمیت تمام کرکٹرز کو باری باری مواقع فراہم کرنے کا پلان بناچکی ہے لیکن بہتر یہی ہوگا کہ سازگار کنڈیشنز میں آزمائے ہوئے کھلاڑیوں کو دوبارہ آزمانے کے بجائے نوجوان کرکٹرز کو میدان میں اتارا جائے۔

محمدحفیظ کے بجائے صاحبزادہ فرحان کو تجربہ حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا،اوپنر کو سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں صرف آسٹریلیا کے خلاف فائنل میچ کھلا کر واپس بھیج دیا گیا،ماضی میں محمد اصغر،آصف ذاکر اور دیگر چند کرکٹرز سکواڈ کے ساتھ سیرسپاٹے کرکے ہی باہر ہوچکے ہیں۔

اگر کسی کو قوم ٹیم کے قابل سمجھا جاتا ہے تو اس کو مواقع بھی دینا چاہئیں زمبابوے کے خلاف پہلے میچ میں بولرز نے میزبان بیٹنگ لائن کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا، دیگر میچز میں بنچ پاور کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں،ایشیا کپ کیلئے تو یاسر شاہ سمیت موجودہ بولنگ اٹیک موزوں ہے،تاہم ورلڈکپ سے قبل اچھابیک اپ بھی تیار کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.