14

حفیظ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں رہی

زمبابوے سے ٹی ٹوئنٹی ٹرائنگولر سیریز میں حفیظ کو مواقع ملے مگر وہ پرفارم نہ کر سکے۔ فوٹو:فائل

زمبابوے سے ٹی ٹوئنٹی ٹرائنگولر سیریز میں حفیظ کو مواقع ملے مگر وہ پرفارم نہ کر سکے۔ فوٹو:فائل

چلیں ایک لمحے کیلیے مان لیتے ہیں کہ حفیظ اچھے آل راؤنڈر نہیں ہیں،ان کی بولنگ میں اب افادیت نہیں رہی، بیٹنگ میں بھی وہ کبھی کبھی اسکورکرتے ہیں ،فیلڈنگ میں نوجوانوں جیسی پھرتی نہیں،عمر بھی اب 38 سال ہو گئی،لیکن اگر ایسا ہے تو ہمارے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ان جیسے کھلاڑی کو منتخب کیوں کیا؟کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد نے اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا؟

ان سے جواب طلبی تو ہونی چاہیے، اگر اب منتخب کر ہی لیا تھا تو کسی سینئر کھلاڑی کے ساتھ ایسا سلوک مناسب نہیں جو زمبابوے میں حفیظ کے ساتھ اپنایا جا رہا ہے،50 ٹیسٹ،200 ون ڈے اور 83 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ملک کی نمائندگی کرنے والا کھلاڑی جو کافی عرصے تک کپتان بھی رہ چکا، اسے اب دودھ میں مکھی کی طرح ٹیم سے الگ کیا جا رہا ہے، مکی آرتھر کو نوجوان کرکٹرز پسند ہیں، وہ چاہتے ہیں ایسے کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل ہو کہ کوچ کہے دن ہے تو بولیں جی سر، وہ بولے رات ہے تو کہیں جی سر۔

شعیب ملک خود ہی اعلان کر چکے کہ وہ آئندہ برس ورلڈکپ کے بعد ون ڈے کرکٹ چھوڑ دیں گے، ویسے بھی وہ سب کے ساتھ چلنے والے کرکٹر ہیں، باقی بچے حفیظ تو ان کیلیے ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ وہ خود پاکستان واپس جا کر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں، مگریہ طریقہ کار درست نہیں،جو کھلاڑی 15 سال سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ملک کی نمائندگی کر رہا ہو اسے افادیت ثابت کرنے کیلیے5 میچز تو دینے چاہیے تھے، پھر اگر پرفارم نہ کرتے تو یقیناً حفیظ کے پاس خود ہی کوئی جواز نہ تھا کہ وہ پاکستان کی مزید نمائندگی کا سوچتے، مگر انھیں 2 ٹی ٹوئنٹی میں اچھا پرفارم نہ کرنے کے بعد ون ڈے سے بھی باہر کر دیا گیا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔

بولنگ ایکشن پر بار بار شکوک اور پابندی کے سبب وہ پریشان ہی رہے، اب کلیئرنس کے بعد ٹیم میں آئے تو ایک سیریز کھیلنے کا موقع تو دینا چاہیے مگر یہ نظر آتا ہے کہ منیجمنٹ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں، یہ درست ہے کہ زمبابوے سے ٹی ٹوئنٹی ٹرائنگولر سیریز میں حفیظ کو مواقع ملے مگر وہ پرفارم نہ کر سکے، پہلے میچ میں حفیظ بطور اوپنر صرف7 رنز پر آؤٹ ہوگئے،البتہ بولنگ میں جب سب سے آخر میں گیند تھامنے کا موقع ملا تو 5بالز پر ہی 2 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔

آسٹریلیا کیخلاف حفیظ سمیت مکمل بیٹنگ لائن ہی ناکام رہی مگر باہرانھیں ہونا پڑا، اس میچ میں بولنگ بھی نہ ملی، پھر دیگر میچز میں حارث سہیل تک کو اوپنر بنا دیا گیا مگر حفیظ کی واپسی نہ ہوئی، پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی کی پرفارمنس پر کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ تک مل جاتی ہے، حفیظ ٹی ٹوئنٹی کی کارکردگی پر ون ڈے ٹیم سے بھی باہر ہو گئے، زمبابوے سے پہلے میچ میں انھیں میدان میں نہیں اتارا گیا،اتنی کمزور ٹیم سے میچ میں شاید کوئی بدقسمت کھلاڑی ہی پرفارم نہ کرتا، زمبابوین اسکواڈ کے کئی کھلاڑی بورڈ سے معاوضے تنازع کے سبب باہر ہیں۔

بعض کو انجری نے سائیڈ لائن کر دیا، ایسے میں شاید کوچ کو بھی ایسا لگتا ہو کہ حفیظ کو کھلایا اور وہ اسکور کر گیا تو آگے مسئلہ بنے گا کیونکہ وہ ان کے مستقبل کے منصوبوں میں ہی شامل نہیں ہیں لہذا ایک بھی موقع نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بعد میں سب نے دیکھا کمزور ترین زمبابوین ٹیم کا پاکستان نے پہلے میچ میں کیا حشر کیا،ایک سابق کپتان ڈریسنگ روم میں ڈراپ ہونے کے بعد تالیاں بجاتا دکھائی دیتا اچھا نہیں لگتا۔

میرے خیال میں مکی آرتھر کو ان سے صاف بات کر لینی چاہیے کہ ’’ جناب ہمیں آپ کی ضرورت نہیں، آپ اب گھر بیٹھیں‘‘مگر اتنی ہمت اگر ہوتی تو شاید منتخب ہی نہیں کرتے، ایک اچھے کھلاڑی کا کیریئر اس انداز میں ختم ہو وہ مناسب نہیں لگتا،کوچ نہیں تو چیف سلیکٹرہی حفیظ سے بات کریں تاکہ وہ بھی جان لیں کہ اب پاکستان ٹیم کے ساتھ سفر ختم ہو گیا، انھیں زمبابوے کیخلاف کم از کم2میچز توکھیلنے دیں جس میں موقع ہو کہ وہ اچھا پرفارم کر کے خوشگوار یادوں کے ساتھ کھیل کو الوداع کہیں،اس وقت ٹیم اچھے نتائج دے رہی ہے۔

امید ہے یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا، البتہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سینئرز کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے، زمبابوے کی اس ٹیم کے خلاف آپ لاہور قلندرز یا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بھی کھلا دیں تو وہ بھی آرام سے جیت جائے، مگر آگے نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ وغیرہ سے بھی میچز ہونے ہیں، وہاں ہمیں تجربے کی بھی ضرورت پڑے گا، کم از کم ورلڈکپ تک تو شعیب ملک کے ساتھ حفیظ کو بھی رکھنا چاہیے، تب تک موجودہ نوجوان کرکٹرز مزید تجربہ حاصل کر لیں گے۔

ابھی پوری الیون میں ینگسٹرز شامل کرنا خطرے سے خالی نہ ہو گا جس سے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں، دنیا کی کوئی بھی ٹیم ایسی نہیں جس میں سینئرز شامل نہ ہوں، حفیظ آل راؤنڈ صلاحیتوں کے ساتھ بہترین کرکٹنگ دماغ کے بھی مالک ہیں،رواں برس کے اوائل میں جب نیوزی لینڈ میں ٹیم پانچوں ون ڈے ہار گئی تو ان میں حفیظ نے ہی دو نصف سنچریاں بنائی تھیں، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھی انھوں نے ففٹی بنائی، ایسا نہیں ہے کہ ان کی کرکٹ ختم ہو گئی البتہ ٹیم منیجمنٹ کی ترجیحات میں وہ شامل نہیں رہے، اب فیصلہ کرکٹ بورڈ اور حفیظ کو ہی کرنا ہے، البتہ سینئرکھلاڑی کو اگر گھر بھیجیں توایسا وقار کے ساتھ ہونا چاہیے،کسی کی عزت نفس مجروح نہ کریں۔

جاتے جاتے ایک اور بات کا ذکر کر دوں میرے گذشتہ کالم کو پڑھ کر پی سی بی کے ایک افسر ناراض ہو گئے، انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ’’ جب 2015میں زمبابوے کی ٹیم پاکستان آئی تو اسے بھی بہت زیادہ سیکیورٹی خطرات لاحق تھے، وہ اس وقت ہمارے ساتھ کھڑے رہے لہذا ہمیں بھی اب ان کا ساتھ دینا چاہیے ،آئی سی سی آفیشلز بھی بولاوایو میں موجود ہیں انھوں نے بھی سیکیورٹی کا جائزہ لیا ہوگا، ہم نے بھی اپنا اطمینان کر لیا ہے‘‘

آخر میں یہ بھی وضاحت کر دوں کہ مذکورہ افسر کو کرکٹ کی ’’سی‘‘ کا علم ہے ہاں میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے’’اے اور بی‘‘ کا بھی نہیں پتا،اب تو خوش ہیں ناں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.