101

تعلیم نسواں – وسیمہ علیم

کیا عورتوں کے لئے شعور کی کوئی اہمیت ہے؟

تعلیم کسی بھی قوم کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے .پھر چاہے مرد ہو یا عورت ،آج پوری دنیا میں عورتوں کے حقوق پر باتیں کی جارہی ہیں اور انکے حقوق کے لئے زیادہ سے زیادہ کوششیں بھی کی جارہی ہیں لیکن اگر ہم پاکستان کے حوالے سے بات کریں اور ٧١ سالہ پاکستانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کے پاکستان میں خواتین کا کردار حالیہ کچھ برسوں میں تھوڑا ہی بہتر ہوا ہے. پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی کا تناسب صرف ٤١.٦% ہے جو کے دوسرے ممالک سے نہایت کم ہے جبکے اسکول چھوڑنے والی طالبات کی شرح ٥٠% ہے جس کی زیادہ تر وجہ ایک خاندان پر ٦ سے ١١ زندگیوں کا بوجھ ہے اور اسی صورت حال میں لڑکیوں کی تعلیم کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے.

ہمارے ہاں آج بھی ایک عورت کے کردار کو صرف بیوی ،ماں ،بہن ،کے خانوں میں بانٹ دیا جاتا ہے .اگر میں بحیثیت ایک عورت کے بارے میں بات کروں تو ہم بیوی ،ماں ،بہن ،کے کردار میں بٹ کر بہت خوش اور مطمئن ہیں. ھمارے سائبان ہماری سلامتی کی وجہ سے ہیں لیکن اس سب کے باوجود خود ایک عورت کا وجود کہیں گم ہوگیا ہے اور اس وجود کا اندازہ ہمیں صرف تب ہوتا ہے جب ہمیں اپنوں کے غیر ہوتے رویے برداشت کرنے پڑتے ہیں اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں.اگر آپ تعلیم یافتہ اور با شعور ہوتیں تو کیا تب بھی آپ کے ساتھ یہی سب کچھ ہوتا ؟ اگر آج اور کل کی عورت میں مقابلہ کریں تو کیا کوئی فرق نظر نہیں آتا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تعلیم نسواں – وسیمہ علیم” ایک تبصرہ

  1. اسلام علیکم!!
    میں اس بات سےاتفاق کرتی ہوں کہ آج بھی پاکستان میں عورتوں کی تعلیم کو فروغ نہیں دیا جارہا۔۔۔۔ عورتوں کو چار دیواری تک محدود کردیا ہے۔۔۔۔ آج بھی پاکستان میں عورتوں کی تعلیم کے حامی بہت کم لوگ ہیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.