40

افغان حکومت اور نیٹو نے امریکا کے طالبان سے براہ راست مذاکرات کے فیصلے کو مسترد کردیا

امریکا افغانستان کی حکومت اور افغان عوام کا متبادل ثابت نہیں ہوسکتا، جنرل جان نکلسن ( فوٹو: فائل)

امریکا افغانستان کی حکومت اور افغان عوام کا متبادل ثابت نہیں ہوسکتا، جنرل جان نکلسن ( فوٹو: فائل)

کابل: افغان حکومت اور نیٹو اتحاد نے امریکا اور طالبان قیادت کے براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا، افغان حکومت نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کوئی بھی پیش رفت افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔

افغان نیوز ایجنسی طلوع نیوز کے مطابق افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ڈپٹی ترجمان نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کا انعقاد صرف افغان حکومت کی قیادت میں ہی ممکن ہے تاہم امریکا امن مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ پڑھیں: امریکا کا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ

طالبان سے براہ راست مذاکرات کی خبروں پر سی ای او آفس سے تو ردعمل سامنے آگیا تاہم افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے ان اطلاعات پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

قطر میں موجود طالبان دفتر کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے تاحال امریکی قیادت نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم رابطہ کرنے پر طالبان ان مذاکرات کا خیر مقدم کریں گے۔

اس حوالے سے حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ امریکی قیادت نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کے حوالے سے ان سے مشورہ کیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طالبان کو  انٹر افغان ڈائیلاگ کا حصہ بنایا جائے کیوں کہ اس اقدام سے افغان مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

گلبدین حکمت یار نے مزید بتایا کہ انہوں نے امریکی قیادت کو یہ بھی کہا کہ اگر طالبان براہ راست امریکی قیادت سے ملنا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں اور امریکی حکام مذاکرات شروع کرسکتے ہیں۔

امریکا افغان کی حکومت اور عوام کا متبادل ثابت نہیں ہوسکتا، جنرل جان نکلسن

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس حوالے سے افغانستان میں موجود نیٹو اتحاد نے بھی امریکا اور طالبان کے براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

jhon-nikolson

افغانستان میں نیٹو اتحاد کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے قبل ازیں کہا تھا کہ امریکا طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اب انہوں نے واضح کیا ہے کہ میرے بیان کو سمجھنے میں غلطی کی گئی امریکا افغان عوام اور افغان حکومت کا متبادل ثابت نہیں ہوسکتا، میرا موقف تھا کہ امریکا مذاکرات میں شمولیت کے لیے تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.